ہستی باری تعالیٰ — Page 40
۔م ہے پہلے آسمان ، زمین ، نباتات اور جانوروں کو پیدا کیا گیا۔ان تمام تغیرات کے بعد جو لاکھوں کروڑوں سالوں میں ہوئے۔انسانوں کو پیدا کیا گیا۔اسی لئے فرشتوں نے کہا کہ بھیڑ ، بکری، گھوڑے، اونٹ وغیرہ تو فساد نہیں کرتے۔انسان کہیں گھوڑے کی سواری کرے گا کہیں کسی سے کچھ کام لے گا اور کسی سے کچھ اور اس طرح فساد ہو گا۔تو دلیل ارتقائی جس کو خدا کی ہستی کے رد میں پیش کیا جاتا ہے وہی خدا کی ہستی کا ایک بین اور روشن ثبوت ہے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَأَيْتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الجاثية : ۱۴) اے انسانو! سوچو تو کہ زمین اور آسمان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سب تمہارے نفع کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں۔پھر اس امر پر غور کر کے کیا تم اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ ایک بالا رادہ ہستی نے یہ سب کچھ ایک پہلے سے تجویز کردہ سکیم کے مطابق کیا ہے۔منکرین خدا کے مسئلہ ارتقاء پر اعتراض جس رنگ میں منکرین خدا ارتقاء کو مانتے ہیں اس پر کئی اعتراض وارد ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ تم کہتے ہو کہ انسان کے پیدا ہو جانے کے بعد پھر کوئی تغیر نہیں ہوا، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کہتے ہیں تغیر کے لئے بڑے لمبے زمانہ کی ضرورت ہے اور انسان پر چونکہ ابھی اتنا زمانہ نہیں گزرا جو تغیر کے لئے ضروری ہے اس لئے اس میں تغیر نہیں ہوا۔مگر ہم کہتے ہیں موجودہ زمانہ کٹ کر شروع ہوا ہے یا وہی چلا آ رہا ہے جو پہلے شروع ہوا تھا۔اگر وہی چلا آرہا ہے تو اگر فرض کرو چھ ہزار سال کے بعد بندر انسان بن گئے تھے تو بندروں کے انسان