ہستی باری تعالیٰ — Page 39
یورپ کی تحقیقات کہتی ہیں کہ شروع میں پہاڑ نہیں تھے بعد میں بنے اور قرآن مجید بھی یہی کہتا ہے کہ خدا نے پہلے زمین بنائی پھر اس پر پہاڑ بنائے جو کہ زندگی کے لئے ضروری تھے۔پھر فرماتا ہے وَبَرَكَ فِيها اور ہم نے اس زمین میں برکت دی۔برکت کے معنی زیادتی، صلاحیت اور پاکیزگی کے ہوتے ہیں۔پس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے اس میں نہ ختم ہونے والے ذخیرے پیدا کئے اور اسے پاک کیا۔گویا دو خو بیاں اس میں رکھیں ایک تو اس میں کثرت سے ایسے سامان پیدا کئے جو آئندہ استعمال ہونے والے تھے چنانچہ سمندروں کی خلق سے اور بعض اندرونی اور بیرونی تغیرات کے قوانین کے ذریعہ سے زمین کے ذخائر میں ایسی کثرت پیدا ہو گئی ہے کہ نہ پانی ختم ہوتا ہے نہ غذاء اور نہ دوسری ضروری اشیاء۔دوسرے معنی برک کے پاکیزہ کر دینے کے ہیں۔پس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اسی وقت اس کی فضاء میں ایسی صفائی اور پاکیزگی پیدا کی گئی کہ جس کے ذریعہ سے اس میں جاندار اشیاء کار ہنا ممکن ہو گیا۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ ہم نے اس میں غذا ئیں پیدا کیں یعنی نباتات و حیوانات پیدا ہوئے جو بوجہ سانس پر زندہ رہنے کے جو کی صفائی کے محتاج تھے اور اس وقت تک پیدا نہیں کئے جاسکتے تھے جب تک کہ پہلے جو کی صفائی نہ ہو جائے اور فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ چار اوقات میں ہوا۔پھر وہ رُوحانی سلسلہ پیدا کیا گیا جو پیدائش کا موجب تھا اور جس کا مظہر انسان ہے اور اس میں انسان کی روحانی ترقیات کے سامان پیدا کئے گئے اور ان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا۔غرض قرآن کریم بتا تا ہے کہ دُنیا کے پیدا کرنے میں تدریجی ترقی کو مد نظر رکھا گیا