ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 33

کے خالق کا وجود اور بھی زیادہ روشن ہو جائے۔پس یہ کوئی اعتراض نہیں۔اس وقت تک تحقیقات کے کئی دور بدلے ہیں مگر یہ مسئلہ زیادہ سے زیادہ قائم ہوا ہے کبھی اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی۔پس ہر جدید تحقیق کے بعد اس اصل کا اور بھی زیادہ پختہ ہو جانا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ آئندہ تحقیق اسے باطل نہیں کرے گی بلکہ ثابت کرے گی۔لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی ایسا ذرہ معلوم ہو جائے جو اپنی ذات میں کامل ہو تو پھر بھی اس کے جوڑنے جاڑنے والے کی ضرورت رہے گی۔لیکن درحقیقت یہ عقلاً محال ہے کہ کوئی ذرہ اپنی ذات میں کامل ہو بغیر بالا رادہ ہستی کے اور قادر مطلق وجود کے یہ طاقت کسی میں نہیں پائی جاسکتی۔پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مادہ جسے اپنی ذات میں مکمل قرار دیا جائے اس کے لئے دوسری شکل اختیار کرنا ناممکن ہے۔کیونکہ تغییر دوسری شے سے ملنے سے ہوتا ہے اور ملنے کی طاقت اس میں ہوتی ہے جو نا مکمل ہو۔کامل تھے چونکہ تغیر قبول نہیں کرتی وہ کسی اور چیز سے حقیقی طور پر مل بھی نہیں سکتی۔اس کا ملنا ایسا ہی ہو سکتا ہے جس طرح کہ کھانڈ کے ذرے آپس میں ملکر پھر کھانڈ کی کھانڈ ہی رہتے ہیں۔پس اگر ایسا کوئی ذرہ فی الواقع ہے تو یہ دنیا اس سے پیدا ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ دنیا تو بے تعداد تغیرات کا مقام ہے۔غرض کائنات عالم پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کی ہر چیز تغیر پذیر ہے اور اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج اس لئے کسی ایسی ہستی کا ماننا جو ان محتاج ہستیوں کو وجود میں لانے والی ہو اور ایک قانون کے ماتحت چلانے والی ہوضروری ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مخفی طاقت سے یہ سب کچھ ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ مخفی طاقت بالا رادہ ہے یا بلا ارادہ۔اگر بلا ارادہ ہے تو وہ خود دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ تمام