ہستی باری تعالیٰ — Page 32
۳۲ ہے۔صمد کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو اور باقی چیز میں اس کی محتاج ہوں۔اب اس حقیقت کو دنیا میں دیکھو کس طرح واضح طور پر ہر جگہ اس کا ثبوت ملتا ہے۔دنیا کی کوئی چیز نہیں جو اپنی ذات میں کامل ہو۔ہر چیز اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور بغیر ان کے قائم نہیں رہ سکتی۔خدا کے سوا ہر چیز دوسری کی محتاج ہے ELEMENTS کے باریک سے باریک ذرات کی طرف چلے جاؤ۔ہر ایک ذرہ کا دوسرے ذرہ پر اثر پڑ رہا ہے۔کہیں نور کا اثر ہورہا ہے۔کہیں اینتھر کا اثر ہورہا ہے۔انسان کامل چیز سمجھی جاتی ہے لیکن یہ پانی روٹی اور ہوا کا محتاج ہے۔سورج ہے جو گیس کا محتاج ہے۔اپنے حجم کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے سیاروں سے مواد لینے کا محتاج ہے اور بیسیوں اشیاء کا محتاج ہے۔زمین ہے تو وہ اپنے وجود کے قیام کے لئے کہیں دوسرے ستاروں کی کشش کی کہیں کرہ ہوا کی۔ایتھر کی۔نئے مادہ کی محتاج ہے۔غرض کسی بڑی سے بڑی چیز کولیکر باریک در باریک کرتے جاؤ تو محتاج ہی محتاج ثابت ہوگی۔پس جب ہر چیز جو ہمیں دُنیا میں نظر آتی ہے وہ اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور یہ احتیاج بتا رہی ہے کہ دنیا کا کارخانہ اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ اس کا چلانے والا کوئی اور ہے کیونکہ محتاج الی الغیر چیز اپنی خالق آپ نہیں ہوسکتی نہ ہمیشہ سے ہو سکتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ چیزوں کی یہ احتیاج موجودہ تحقیقات کی رو سے ہے جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو شاید ثابت ہو جائے کہ بحیثیت مجموعی دُنیا کسی کی محتاج نہیں۔اول تو اس کا یہ جواب ہے کہ شاید نی تحقیق سے دنیا کی احتیاج اور بھی واضح ہو جائے اور اس