ہستی باری تعالیٰ — Page 34
مسم طاقتیں دوسری چیزوں کی حرکت یا با ہمی ترکیب سے پیدا ہوتی ہیں اور اگر بالا رادہ ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ہم بھی تو ایسی ہی طاقت کو منوانا چاہتے ہیں۔غرض کہ اللهُ الصَّمَدُ میں خدا تعالیٰ کے وجود کی ایک نہایت عجب دلیل دی گئی ہے۔تیری دلیل مسئله ارتقاء وہ مسئلہ جو خدا کے وجود کے خلاف سب سے زیادہ پیش کیا جاتا ہے ارتقاء کا مسئلہ ہے۔یعنی یہ دنیا جو ہمیں نظر آتی ہے پہلے دن سے اسی طرح نہیں چلی آئی بلکہ پہلے باریک ذرات تھے جو لاکھوں سال بعد ایک سے دو ہوئے ، دو سے تین ، پھر چار، پانچ حتی کہ اس طرح بڑھتے گئے۔ادھر نباتات اور حیوانات میں اسی طرح آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی۔جو بہتر نسل تھی وہ اور زیادہ بہتر پیدا کرتی گئی حتی کے بندر بن گیا اور پھر اس سے اوپر بعض اور جانور اور پھر ان سے آدمی بنے۔ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ بند ر سے انسان بنے مگر ہمیں قرآن کریم یہ ضرور بتاتا ہے کہ دنیا کی پیدائش تدریجی تغیر کے ساتھ ہوئی ہے۔قرآن کریم اس تغیر کے متعلق جو کچھ بتاتا ہے اس کی مثال پہاڑوں سے دی جاسکتی ہے۔پہاڑ کو جہاں بھی دیکھو گے اس کا ایک سلسلہ نظر آئے گا۔پہلے چھوٹا ٹیلا آتا ہے پھر اس سے اونچا پھر اس سے اونچا اور جب اونچائی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو پھر چوٹیاں نیچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اونچائی بہت کم ہو جاتی ہے۔اس کے بعد پھر وہ اونچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں پھر نیچی ہونے لگتی ہیں۔حیوانات کی پیدائش میں بھی اس قسم کا ارتقاء ضرور ہوا ہے۔یعنی قبض اور بسط کی تدریجی روئیں دنیا میں ضرور چلی ہیں۔یہ نہیں کہ ایک ہی دن میں سب چیزیں پیدا ہو گئیں یا یہ کہ ایک ہی دن میں ایک ٹھے پیدا ہو