ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 31

قوموں کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اگر ان کی شرارت نہیں اور وہ دھوکا نہیں دیتے تو بات یہی ہے کہ انہوں نے خدا کے متعلق دیکھا کچھ ضرور ہے مگر بھول جانے کی وجہ سے بعد میں کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ورنہ یہ غیر ممکن ہے کہ ہزاروں تو میں سینکڑوں ملکوں میں رہنے والی جن میں سے بعض کو آپس میں ملنے کا بھی کبھی اتفاق نہیں ہو ا سب کی سب ایک زبان ہو کر اس امر کا اقرار کرنے لگیں کہ اس مخلوق کا ایک خالق ہے یہ اتفاق اور اتحاد بلاکسی قوی وجہ کے بالکل ناممکن ہے۔ہستی باری کی دوسری دلیل دوسری دلیل جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قرآن کریم نے دی ہے۔یہ ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (الاخلاص: ۲) کہو خدا ہے اور ہے بھی ایک۔اس آیت میں جو یہ دو دعوے کئے گئے ہیں کہ (۱) خدا ہے اور (۲) ایک ہے۔ان میں سے پہلے کا ثبوت تو یہ دیا کہ اللہ الصمد اور دوسرے کے دو ثبوت دیئے کہ (۱) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ (۲) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ۔شرک دو قسم کا ہے ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں چاہے اس سے چھوٹے ہوں یا بڑے۔دوسرے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہوتو مخلوق ہی مگر اسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات۔مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے تینوں امور کا ثبوت دیا ہے اوّل خدا کی ذات کا۔دوسرے خدا کے واحد فی الذات ہونے کا۔تیسرے واحد فی الصفات ہونے کا۔چونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق بحث کر رہا ہوں اس لئے میں صرف اس آیت کو لیتا ہوں جس میں ہستی باری پر بحث ہے اور وہ اللهُ الصَّمَدُ کے الفاظ ہیں۔یعنی خدا اپنی ذات میں کامل الاخلاص ۵،۴ الاخلاص ، د