ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 30

و ہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبر دست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔ہر قوم میں خدا کا خیال ہونے پر اعتراض اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بیشک خدا کے ماننے کا عام خیال پایا جاتا ہے مگر کوئی دو خیال آپس میں متفق دکھا دو۔ایک اگر کہتا ہے کہ ایک خدا ہے تو دوسرا کہتا ہے دو ہیں۔تیسرا کہتا ہے تین ہیں، چوتھا کہتا ہے لاکھوں کروڑوں ہیں، پانچواں کہتا ہے ہر چیز خدا ہے، ایک وشنو اور شو کو خدا مانتے ہیں، دوسرے ایک ٹور کا اور ایک تاریکی کا خدا مانتے ہیں غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ خیال یقین کی بناء پر نہیں بلکہ وہم ہے۔جوا اس کے متعلق ہم کہتے ہیں۔اس خیال کا وہ حصہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں وہ باطل ہے۔مگر جس حصہ کو سارے کے سارے مان رہے ہیں وہ کیوں باطل قرار دیا جائے۔سارے کے سارے یہ تو کہتے ہیں کہ خدا ہے سہی۔اس کے آگے جو کچھ کہتے ہیں اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ ان کی یہ تشریحیں غلط ہیں اور خدا ہے والا خیال درست ہے۔جیسے ایک شخص کہے میں نے دس سوار دیکھے، دوسرا کہے میں نے ہیں دیکھے، تیسرا کہے میں نے پچھیں دیکھے تو کیا یہ کہیں گے کہ کسی نے ایک بھی سوار نہیں دیکھا۔اگر انہوں نے قریب اور شرارت نہیں کی اور دھوکا بنا کر نہیں لائے تو یہی کہا جائے گا کہ سوار تو ضرور تھے آگے گننے اور اندازہ لگانے میں ان کو غلطی لگ گئی۔اسی طرح دنیا کی مختلف