ہستی باری تعالیٰ — Page 29
۲۹ هستی باری تعالیٰ ہے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ خیال کہیں سے نکلا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس دلیل کو پیش کیا ہے۔فرماتا ہے۔اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (الفاطر: ۲۵ ) کہ کوئی قوم دنیا کی ایسی نہیں جس میں میرے پکارنے والے نہیں پھر گئے اور یہ نہیں بتا گئے کہ میں ہوں۔یہی ہر قوم میں پھرنے والے تھے جنہوں نے ان میں خدا کے ہونے کا خیال پھیلا یا۔پس یہ قبولیت عامہ کی دلیل ہے۔دہریت نے اس کے مقابلہ میں بڑے زور لگائے اور آج ہی نہیں بلکہ پہلے سے لگا رہی ہے مگر پھر بھی دہریت ہی مغلوب ہوتی رہی اور خدا کے ماننے والے ہمیشہ سے غالب ہوتے رہے۔اور یہ بھی ثابت ہے کہ دہریے بھی مرتے وقت یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم خدا کی ہستی کا انکار نہیں کرتے ممکن ہے کہ خدا ہو۔چنانچہ ولایت میں ایک دہریے نے مرتے وقت بہت بڑی جائیداد اس بات کے لئے وقف کی کہ اس کے ذریعہ خدا کی ہستی پر بحث جاری رہے۔منکرین خدا کے متعلق تو اس قسم کی باتیں ثابت ہیں مگر خدا کے ماننے والوں میں سے کبھی کسی نے مرتے وقت نہیں کہا کہ شاید خدا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود سنایا کرتے تھے کہ ہمارے ( ہمارے سے مراد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ہیں ) ماموں میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ ایک دہر یہ پڑھا کرتا تھا۔ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نے رام رام کیوں کہا؟ کہنے لگا غلطی ہو گئی یونہی منہ سے نکل گیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والے علم پر اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت وہ یہ یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کی بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہر یہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے