ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 255

۲۵۵ کر نکالتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وفات کے وقت یہ الفاظ ت اللهُم بِالرّفِيقِ الأغلى اے خدا اب میں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں۔صفات الہیہ سے واقف کی حالت جس کو صفات الہیہ سے کام لینے کا طریق معلوم ہو جاتا ہے اس کے سامنے ساری دنیا بیچ ہو جاتی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کسی وجہ سے اس کے لئے اپنی ایک صفت جاری نہ کرے تو دوسری کھلی ہوتی ہے ادھر چلا جاتا ہے۔مثلاً اگر اس پر موت آتی ہے اور خدا تعالیٰ استغناء کی وجہ سے اس کے لئے کئی صفت جاری نہیں کرتا اور مارڈالتا ہے تو اس کی ملک یوم الدین کی صفت بھی تو ہے اس لئے وہ دوسرے رنگ میں فائدہ اُٹھالیتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا بندہ کبھی کسی بات سے نہیں گھبراتا ، اس کا رنج بھی خوشی کا پہلو رکھتا ہے اور خوشی بھی خوشی کا۔اگر مرتا ہے تو بھی وہ خوش ہوتا ہے اور اگر زندہ رہتا ہے تو بھی خوش ہوتا ہے۔اگر اس کا کسی سے جھگڑ ا فساد ہو جاتا ہے تو خدا کی صفت جبار کو بلاتا ہے کہ اے جبار! اس کی اصلاح کر دے اور خدا تعالیٰ اصلاح کر دیتا ہے اور پھر خواہ کسقد رد شمنی اور عداوت ہو خدا چونکہ ودود بھی ہے اس کے متعلق اس کے دشمنوں کے دل میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الْفُتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ - (الانفال: ۶۴ ) کہ اگر تم دنیا کا سارا مال بھی خرچ دیتے تو لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا کیونکہ قلوب کا جوڑ نا اسی کا کام ہے۔بخاری کتاب المغازی باب آخر ما تكلم به النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔اللَّهُم الرَّفِيقَ الْأَعْلَى