ہستی باری تعالیٰ — Page 254
۲۵۴ دیا گیا۔آپ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ چالیس ہزار الفاظ کا مادہ ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا۔پس دیکھو خدا کی صفات کا علم حاصل کر کے آپ کیا سے کیا بن گئے۔گویا کہ آپ اس دُنیا کے آدمی ہی نہ رہے آسمانی عالم کے وجود ہو گئے۔صفات الہیہ کا علم رکھنے والے کے نزدیک بادشاہ کی حقیقت جو کوئی اس علم کو حاصل کرتا ہے اس کی خاص حالت ہو جاتی ہے دیکھو ایک بادشاہ کی نسبت لوگ کہتے ہیں اس کا بڑا اقبال ہے مگر میں کہتا ہوں اس شخص کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے جسے صفات الہیہ کا علم حاصل ہو گیا۔دنیوی بادشاہوں کے خزانے ختم ہو جاتے ہیں مگر یہ جس بادشاہ سے تعلق رکھتا ہے اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔پھر ان بادشاہوں کو ایسی دقتیں پیش آ جاتی ہیں جن کا وہ کوئی علاج نہیں کر سکتے۔چنانچہ جرمنی کے ایک قیصر کو خناق ہو گیا۔بیسیوں ڈاکٹروں نے زور لگا یا مگر کچھ نہ کر سکے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو لوگ اس کے در پر گرنے والے ہیں وہ ایسی بیماریوں سے جو سخت تکلیف دہ ہوں یا ڈراؤنی ہوں محفوظ رہتے ہیں۔یورپ کے اخبارات نے مذکورہ بالا قیصر کی وفات پر لکھا کہ بڑے بڑے ڈاکٹر تین دن تک ملک الموت سے جنگ کرتے رہے لیکن آخر کار ملک الموت کامیاب ہو گیا۔یہ بادشاہ اس تکلیف سے مرا تھا کہ دیکھنے والے بیتاب ہو ہو جاتے تھے۔مگر جس شخص سے اس کا تعلق ہو جس کے قبضہ میں ملک الموت ہے وہ کب اس قسم کے خطرات کی پرواہ کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نبی کی جان ملک الموت اس سے پوچھ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۳۴