ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 256

مؤمن کے وزراء ۲۵۶ پس دیکھو مؤمن کی کتنی عظیم الشان حکومت ہوتی ہے۔دنیاوی بادشاہ تو چھ سات وزیروں سے کام لیتے ہیں لیکن مؤمنوں کے کم از کم ننانوے وزراء تو ہو گئے کیونکہ نانوے صفات الہیہ جو عام طور پر مشہور ہیں یہ سب کی سب ان چیزوں کو جو اُن کے ماتحت ہیں مؤمن کی خدمت میں لگا دیتی ہیں اور اس کا بوجھ ساری دنیا پر بانٹ دیتی ہے۔مثلاً کبھی مؤمن کی خواہش ہو کہ دُنیا کے کاموں سے فارغ ہو تو اس کے لئے خدا کی صفت وکیل ہے اسے کہے اے وکیل ! تو ہی میرے کام کر دے فوڑ اوہ صفت اپنے جلوہ سے دنیا میں ایسے سامان پیدا کر دیتی ہے کہ اس کے کام آپ ہی آپ ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انبیاء اور ان کے کئی اتباع دنیوی کاموں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں مگر خدا ان کے سارے کام پورے کرتا رہتا ہے۔تیسر انفع یہ ہوتا ہے کہ ہم ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر کے ترقی کر سکتے ہیں۔یعنی پہلے درجہ میں تو انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنی مدد کے لئے بلاتا ہے جب اس سے ترقی کرتا ہے تو پھر خود صفات الہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنے لگ جاتا ہے گویا خدا سے یہ نہیں چاہتا کہ اسے رزق دے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ رزاقیت دے، ربوبیت دے، ملکیت ، رحمانیت دے، خالقیت دے۔اس حالت میں پہنچ کر انسان کے اخلاق اور ہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔وہ انسانوں میں رہتا ہے لیکن الگ ہی قسم کا انسان ہوتا ہے دشمن بھی اس کے اخلاق دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ان کی خوبی مانتا ہے البتہ عداوت اور دشمنی کی وجہ سے یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ بناوٹ کے طور پر کرتا ہے۔