ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 251

۲۵۱ اسی طرح اگر کوئی دشمن ہے جو دین کے لئے مضر ہو اور اس کی موت دین کے لئے مفید ہو سکتی ہو یا طاعون یا اور بیماریوں کے کیڑے ہیں جو ہمارے لئے مضر ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ مر جائیں تو ہم خدا تعالیٰ کی صفت ممیت سے کہیں گے کہ انہیں مار ڈال۔یا کبھی کوئی چیز کالمردہ ہو اور ہمیں اس کی حیات مطلوب ہو تو ہم اس کے لئے خدا تعالیٰ سے اس طرح دُعا کریں گے کہ اے محیی ! اسے زندہ کر دے اور ہمارا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے موقعوں پر دُعا ئیں سنتا ہے اور بظاہر مردہ وجودوں کو زندہ کر دیتا ہے جیسے عبد الرحیم خان صاحب کی مثال موجود ہے کہ جب ڈاکٹروں نے جواب دید یا تو حضرت صاحب نے دُعا کی اور تندرست ہو گئے۔پھر انسان سے گناہ ہو جاتے ہیں اور لوگ تو گھبرائیں گے کہ کس طرح ان کا اثر دور کریں لیکن ہم کہیں گے خدا غفار ہے اسے کہو وہ بخش دے گا۔غرض ہر چیز کا خزانہ خدا تعالیٰ کے پاس موجود ہے کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا خزانہ خدا کی صفات میں نہ مل سکتا ہو۔پس خدا کی صفات کے علم کے ذریعہ سے انسان اپنی تمام ضروریات کو پوری کر سکتا ہے اور گویا صفات الہیہ ایسی نالیاں ہیں جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جاری ہیں اور ہمارا کام یہ ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ جس نالی سے ملے اس کے نیچے پیالہ لے جا کر رکھ دیں یعنی جس بات کی ضرورت ہو اس کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی صفت ہے اس کو پکار ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَلِلهِ الْأَسْمَاءِ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الاعراف:۱۸۱) کہ خدا تعالیٰ کے اندر سب صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اس لئے جو ضرورت تمہیں پیش آئے ان کے ذریعہ اس سے