ہستی باری تعالیٰ — Page 252
۲۵۲ مانگو۔اس آیت سے دُعا کرنے کا بھی یہ نکتہ معلوم ہو گیا کہ جو چیز مانگنی ہو اس کے مطابق جو صفت ہو اس کے ذریعہ سے مانگنی چاہئے۔پس صفات کا بار یک علم دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہوتا ہے اور جو اس علم کا پتہ لگا لیتا ہے اس کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کی صفات کا سب سے زیادہ علم رکھے گا اس کی دُعائیں بھی سب سے زیادہ قبول ہوں گی۔دعا کیلیے مناسب صفت کو کس طرح منتخب کرے؟ اگر یہ سوال کیا جائے کہ دُعا کے لئے صفات الہیہ کا انتخاب کس اصل پر ہونا چاہئے ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مثلاً جو تکلیف ہے وہ کیوں ہے؟ اور پھر اس وجہ کو مد نظر رکھ کر جس صفت کے ذریعہ سے دعا کرنا مناسب ہوگا اس کے ذریعہ سے دُعا کی جائے گی۔ظاہری علوم میں بھی اس کی مثال دیکھ لو۔ایک شخص کے پیٹ میں درد ہوتی ہے تو اسے طبیب کسٹرائل دیتا ہے۔ایک دوسرے کو پیپر منٹ۔تیسرے کو قے کراتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ گو ہے تو سب کے پیٹ میں ہی در دلیکن سبب مختلف ہیں۔اس طرح انسان کی تکالیف کئی اسباب سے ہوتی ہیں۔مثلاً قرض کو لے لو کبھی قرض اس وجہ سے چڑھ جاتا ہے کہ انسان سے کوئی ایسا گناہ سر زد ہو جاتا ہے جس کی مناسب سزا اسے مالی تنگی کا پہنچنا ہوتی ہے کبھی اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ خدا دیکھتا ہے کہ اگر اس کو زیادہ مال دوں گا تو گمراہ ہو جائے گا۔کبھی اس کی وجہ اس کی شستی ہوتی ہے یہ اس قدر آمد نہیں پیدا کرتا کہ سال کا خرچ چل سکے۔یا مثلا کسی پر ذرائع آمد کے محدود ہونے کے سبب سے قرض ہو جائے گا۔یہ چاروں