ہستی باری تعالیٰ — Page 250
۲۵۰ تکالیف کو دور کرنے والے اور مصائب کو مٹانے والے خدا ہمیں تکالیف سے بچالے۔تو گویا ہماری مثال ایسی ہوگی کہ ہم ایک ایسے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں جسے خوب پھل لگے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ میں ایک لمبا بانس ہے جب جی چاہتا ہے بانس کے ذریعہ پھل اتار لیتے ہیں۔مثلاً کسی کو کوئی بیماری اور دُکھ ہو تو وہ شافی خدا کے سامنے اپنی درخواست کو پیش کرے گا اور کہے گا کہ تو جوشفاء دینے والا ہے مجھے شفاء عطا فرما۔یا مثلاً بعض لوگوں کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے مگر دنیا میں کوئی شخص نہیں جو اولاد دے سکے۔جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے کہیں گے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں خدا خالق ہے اسے کہو اے خالق ! مجھے بھی اولاد دے ! یہ صرف باتیں ہی نہیں بلکہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔یہیں ایک ہندو ہے اس کی شادی کو کئی سال ہو گئے تھے مگر اولاد نہ ہوتی تھی اس نے دعا کی کہ اے خدا! اگر مرزا صاحب بچے ہیں تو ان کے طفیل مجھے اولاد دے۔میں سال تک اس کے اولاد نہ ہوئی تھی اس کے بعد اس کے اولاد ہو گئی۔اسی طرح قریب ہی کے گاؤں کا ایک اور ہندو ہے جو ایک دفعہ جلسہ کے ایام میں بٹالہ سے قادیان آنے والی سڑک پر بیٹھ گیا تھا اور سب جلسہ پر آنے والوں کو رس بھی پلاتا تھا اور یہ بھی بتاتا تھا کہ مرزا صاحب کے صدقے مجھے خدا نے یہ بچہ دیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ چونکہ خالق ہے اس لئے جب دُنیا کے ڈاکٹر کسی بات سے جواب دے دیتے ہیں تو اس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اگر خدا ہی کی منشاء نہیں تو اور بات ہے ورنہ اس سے حاصل کرنے کا رستہ کھلا ہے۔