ہستی باری تعالیٰ — Page 211
۲۱۱ حضرت مسیح موعود کے ایک الہام کا مطلب لوگ اس الہام پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور روزہ کھولا کرتا ہوں اور لغوی معنے یہ ہیں کہ میں رُکتا ہوں اور روک کو دور کرنے کے وقت کو پاتا ہوں مگر مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میں بعض صفات کو روک دیتا ہوں اور دوسرا وقت ایسا آتا ہے کہ میں انہیں جاری کرتا ہوں۔پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی ہے جو دوسری صفات سے کام لیتی ہے بعض کو آگے پیچھے کرتی ہے بعض کو روکتی ہے اور بعض کو جاری کرتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک وقت اپنی صفات کو روکتا اور پھر جاری کرتا ہے تو پھر اُفطِرُ اور آصوم کیوں کہا؟ یہ کیوں نہ کہدیا کہ میں صفات کو روکتا بھی ہوں اور کھولتا بھی ہوں۔الہام مسیح موعود کے پر حکمت الفاظ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتیں وسیع معنے رکھتی ہیں اور میں رُکتا ہوں اور کھولتا ہوں کہنے میں وہ لطف نہ ہوتا جو اُفَطِرُ وَ اَصُومُ میں ہے۔یہ الفاظ کہہ کر خدا تعالیٰ نے اپنے فعل کو روزہ دار کے فعل سے تشبیہ دی ہے اور تین موٹی موٹی باتیں ہیں جو روزہ دار میں پائی جاتی ہیں۔اول یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے رکتا ہے جو اس کے قبضہ اور اختیار میں ہوتی ہیں۔مثلاً کھانا ہوتا ہے مگر وہ نہیں کھاتا۔گویا وہ احتیاج کے طور پر نہیں رکتا بلکہ با وجود قدرت کے اپنی مرضی سے رکتا ہے اسی طرح جب افطار کرتا ہے تو