ہستی باری تعالیٰ — Page 210
۲۱۰ کریم میں نقل ہے کہ فَهُوَ يَشْفِيْنِ۔(الشعراء : ۸۱) حضرت مسیح موعود پر خدا کی ایک خاص صفت کا اظہار حضرت مرزا صاحب بھی چونکہ نبی تھے اور آپ نے لکھا ہے کہ نبی غوامض بیان کرنے کے لئے آتے ہیں یعنی مخفی امور نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔تو آپ بھی چونکہ نبی تھے اس لئے ضروری تھا کہ غوامض بیان کرتے۔انہی میں سے ایک بات یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالی کی کئی صفتیں ایسی بیان کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ پر کھولی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک صفت ایسی بھی ہے جو مختلف صفات کی حد بندیوں کو ظاہر کرتی ہے۔اس صفت پر حضرت مسیح موعود کا مندرجہ ذیل الہام دلالت کرتا ہے۔ابي مَعَ الرَّسُوْلِ أَقْوَمُ وَأَفْطِرُ وَ أَصُوْمُ “ ( تذکرہ صفحہ ۴۹۰ ایڈیشن چہارم) اب نہ اُفطِرُ کا لفظ قرآن کریم میں خدا کے لئے آیا ہے اور نہ آصوم کا۔اور جس طرح انسان کے لئے خدا کا کوئی اہم بنانا ناجائز ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف کوئی تشیی فعل منسوب کرنا بھی نا جائز ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو خود آپ کے الہام میں اُفْطِرُ وَ أَصُوم کے الفاظ استعمال کر کے بتایا ہے کہ اس کی صفات میں افطار وصوم کی مشابہ ایک صفت ہے جو صفات کے عمل کو جاری کرنے یا بند کرنے کا کام کرتی ہے اُفطِرُ سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی صفت کو جاری ہونے کا حکم دیتا ہوں اور آصومہ کا یہ مفہوم ہے کہ میں اپنی صفت کے ظہور کو روک دیتا ہوں۔