ہستی باری تعالیٰ — Page 212
۲۱۲ هستی باری تعالیٰ بُھوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے کے ماتحت اور اپنی خوشی سے ایسا کرتا ہے۔گویا اس مشابہت سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض صفات جن کو خدا تعالیٰ روکتا ہے اپنی مرضی سے روکتا ہے نہ بوجہ احتیاج کے اور بعض صفات جن کو کھولتا ہے ان کو بھی اپنی مرضی سے کھولتا ہے نہ کہ بسبب احتیاج کے۔دوسرے اس مشابہت سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ خالی رکنا اندرونی تکان کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے یعنی گو بیرونی مجبوری کوئی نہ ہو لیکن اپنے نفس میں تکان پیدا ہو جائے جیسے آدمی کا کھاتے کھاتے پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے لیکن روزہ دار اس لئے کھانے سے نہیں رکتا کہ وہ کھا نہیں سکتا یا اس میں کھانے کی طاقت نہیں رہتی بلکہ اپنی مرضی سے رُکتا ہے۔سو اس مشابہت سے بتایا کہ خدا تعالیٰ تھک کر اپنی صفات کو نہیں چھوڑتا اور نہ اس میں نئی طاقت آجاتی ہے تو ان کو جاری کرتا ہے بلکہ اپنی مرضی سے اور اپنی خاص حکمت سے صفات کو جاری کرتا یا روکتا ہے۔تیسری بات اس مشابہت سے یہ بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات قہر یہ ہمیشہ روحانی تاریکی کے وقت جاری ہوتی ہیں ( کیونکہ یہ الہام صفات قہر یہ کے متعلق ہے ) اور یہ صفات روحانی صفائی پیدا ہونے پر روک لی جاتی ہیں کیونکہ صوم یعنی رکنے کا وقت ٹور کے شروع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور افطار ظلمت کے شروع ہونے سے۔تو گویا اس مشابہت کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود کو اس الہام میں عذاب کے متعلق بتایا گیا کہ جب نیکی اور تقویٰ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب دینے کی صفات کو روک دیتا ہے اور جب ظلمت اور تاریکی پھیل جاتی ہے، لوگ