ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 205

۲۰۵ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص باغ میں گیا اور جا کر دیکھا کہ زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کو تو بڑے بڑے پھل لگے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے اونچے درختوں کو چھوٹے چھوٹے۔اس نے کہا لوگ تو کہتے ہیں اللہ میاں بڑا دانا ہے۔مگر اس نے یہ کیا کیا ہوا ہے۔انہیں خیالات میں وہ ایک آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔اوپر سے ایک آم اس پر گرا اور وہ اُٹھ کر کہنے لگا اللہ میاں مجھے تیری اس حکمت کی سمجھ آگئی اگر مجھ پر کدو گر تا تو میرا کام ہی تمام ہو جاتا۔تو نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے میری گستاخی تھی جو میں نے اعتراض کیا۔غرض خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر اعتراض کرنے والے اول درجہ کے جاہل ہوتے ہیں اور نادانی سے اس ذات پر اعتراض کرتے ہیں جو اُن کو پیدا کرنے والی ہے اور جس کے مقابلہ میں وہ لکھی جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔خدا کی بادی صفت پر اعتراض اور اس کا جواب پھر کہا جاتا ہے کہ خدا کی ہادی صفت نے کیا کیا۔زیادہ دنیا تو گمراہی کی طرف جا رہی ہے۔اگر اس اعتراض کا یہ مطلب ہے کہ خدا کسی کو برے کام کیوں کرنے دیتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا لوگوں پر جبر کیوں نہیں کرتا ؟ گو یا جب کوئی شراب پینے جائے تو اسے روک دے لیکن اگر یہ حالت ہو تو پھر کوئی انعام کا کس طرح مستحق ہو۔بات یہ ہے کہ اس قسم کے معترض اعتراض کرتے ہوئے پھول جاتے ہیں کہ دنیا کو خدا نے کیوں پیدا کیا ہے۔اس بات کو بھلا کر اعتراض کرتے ہیں یا پا گلا نہ طور پر اعتراض کرتے ہیں۔دُنیا کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسانوں کو انعام اور ترقیاں دے لیکن اگر جبر ہوتا