ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 204

۲۰۴ هستی باری تعالیٰ پڑ جائیگا۔خود ہی اندازہ کر لو کہ اس قانون کے ماتحت ایک سال میں یہ تعداد کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ایسی حالت ہوتی تو عورت مرد آپس کے تعلقات سے کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ ہم اس کے قریب نہ جائیں گے۔پھر ایک بچہ پیدا ہونے پر عورت کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ اس کا بُرا حال ہو جاتا ہے اور ولایت میں تو عورتیں رحم ہی نکلوا دیتی ہیں تا کہ بچہ پیدا ہونے کی تکلیف نہ برداشت کرنی پڑے۔لیکن اگر ایک ہی وقت میں پے در پے بچے پیدا ہو سکتے تو نہ معلوم وہ کیا کرتیں۔شادی کا ہی نام نہ لیتیں یا پھر ایک ایک مرد کو کئی کئی سو عورتیں کرنے کی اجازت ہوتی۔اگر خدا آہستہ نہ بڑھاتا پھر آہستہ پیدا کرنے والا اعتراض آہستہ بڑھانے پر بھی پڑتا ہے کہ آہستہ آہستہ کیوں خدا بڑھاتا ہے۔اس طرح بھی نہ ہو بلکہ ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر یکدم بڑا ہو گیا۔مگر اس طرح ایک اور مصیبت شروع ہو جائیگی۔بچہ کے پیدا ہونے پر جوں توں کر کے ماں نے جلدی سے اس کے اندازہ کا گرتا سیا کہ سردی سے مر نہ جائے لیکن جب وہ پہنانے لگی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ پانچ چھ سال کا بن گیا ہے پھر وہ سات آٹھ سال کے بچہ کے اندازہ کا کپڑا سی کر لائی مگر دیکھا کہ وہ تو داڑھی والا مرد بنا بیٹھا ہے۔غرض فوڑا پیدائش اور بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں ایک ایسی آفت آجائے کہ یہی لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کانوں کو ہاتھ لگا ئیں اور کہہ اٹھیں کہ ہم نے خدا کی قدرت دیکھ لی اور ہم اعتراضوں سے باز آئے۔