ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 206

۲۰۶ تو انعام دینا غلط ہوتا۔پس خدا تعالیٰ نے انعام دینے کے لئے انسان کو نیکی اور بدی کا علم دیگر اسے قدرت دے دی ہے اور بتا دیا کہ یہ کام کرو گے تو انعام ملے گا اور یہ نہ کرو گے تو سزا اور یہ صاف بات ہے کہ انعام پانیوالے تھوڑے ہی ہوتے ہیں سارے نہیں ہوا کرتے۔دیکھو یہ جو یونیورسٹیاں بنی ہوئی ہیں ان میں تیس پینتیس فیصدی طلباء پاس ہوتے ہیں اگر کوئی کہے کہ ان کا کیا فائدہ ہے؟ تو اس کے جاہل ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔مگر ان یو نیورسٹیوں کے کام کا نتیجہ تو بہت ادنیٰ ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے وہ بہت شاندار ہے اس لئے اس کا امتحان بھی بہت سخت ہے۔خدا نے امتحان آسان رکھا ہے اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ انعام دے تو امتحان آسان رکھنا چاہئے تھا۔اس کا یہ جواب ہے کہ اس سے زیادہ کیا آسان ہو سکتا ہے کہ اکثر نیکیاں خدا تعالیٰ نے وہی رکھی ہیں جن میں انسان کا اپنا فائدہ ہے۔ان کو نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کسی کو کہا جائے کہ تم اپنے گھر کو لیپ پوت چھوڑ نا مگر وہ ایسا نہ کرے اور کہے کہ اتنا سخت کام ہے اور مزدوری دیتے نہیں تو میں کیوں کروں۔دیکھو خدا تعالیٰ کہتا ہے چوری نہ کرو اب اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کا کسے نقصان ہے خدا تعالیٰ کو یا خود سے؟ یا خدا تعالیٰ کہتا ہے جھوٹ نہ بولو اب اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو خدا تعالیٰ کا کیا نقصان خود اس کا اعتبار نہیں رہتا۔اسی طرح جس قدر سوالات خدا نے اس امتحان میں پاس ہونے کے لئے دیئے ہیں وہ انسان کے ہی فائدہ کے لئے ہیں اور چند ایک ایسے بھی ہیں جو بظاہر انسان کے دنیوی یا اخلاقی