ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 190

۱۹۰ هستی باری تعالیٰ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اعتراض کرنے سے غرض ہے، احقاق حق سے غرض نہیں۔بیماریاں کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ دہریے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا بجلی ، زلزلہ وغیرہ میں اور موذی جانوروں میں تو حکمتیں ہیں مگر بیماریاں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ بیماری کیا چیز ہے؟ اول جب کسی جگہ زائد فضلہ جمع ہو جائے تو اس کا نام بیماری ہے دوسرے انسان کا جسم کچھ چیزوں سے مل کر بنا ہے ان میں سے اگر کوئی چیز اپنی مقدار کے لحاظ سے کم ہو جائے تو یہ بیماری ہے۔تیسرے بیرونی چیزوں کے اثرات انسان پر پڑتے ہیں۔مثلاً انسان کھاتا ہے،سانس لیتا ہے، سونگھتا ہے، پیتا ہے، اس کے جسم کا فعل کبھی تیز ہوجاتا ہے کبھی ست اسی کا نام بیماری ہے۔فضلہ کی زیادتی سے بیماری اب ہم ان کے متعلق الگ الگ بحث کرتے ہیں فضلہ کی پیدائش کیوں اور کس طرح ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پانی یا روٹی زیادہ کھا پی لے یا کوئی ایسی چیز کھالے کہ جس کو معدہ ہضم نہ کر سکتا ہو اور سدا بن جائے۔جیسے گھر کی نالی میں جب کوئی اینٹ روڑا آجاتا ہے تو پانی باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح پیٹ میں کوئی ایسی چیز ڈال لی گئی جو پھنس گئی۔اب بیماری کے نہ ہونے کے کیا معنی ہوئے کیا یہی نہیں کہ اس کے جسم میں کبھی بھی فضلہ جمع نہ ہوتا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ انسان خواہ کس قدر بھی کھا جاتا اسے بیچ جانا چاہئے تھا۔اب اس قانون کے ماتحت دنیا کو چلا کر دیکھو تو کس قدر جلد اس پر تباہی آجاتی