ہستی باری تعالیٰ — Page 189
۱۸۹ کی اپنی جدا گانہ ہستی بھی ہے لیکن بجلی وغیرہ نقصان رساں چیزیں کیوں پیدا کی گئیں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی چیزیں بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت پیدا ہوئی ہیں اور ہمیشہ سے موجود ہیں یہ نہیں ہوتا کہ جب کسی پر بجلی گرنی ہوتی ہے اس وقت اسے پیدا کر کے بھیجتا ہے اس نے ایک قانون بنا دیا ہے اس قانون کے خلاف جو چلتا ہے وہ ہلاک ہوتا ہے۔پھر ایسی چیزوں میں فائدے بھی ہوتے ہیں بلکہ ان کا فائدہ زیادہ ہے اور نقصان کم ہے۔مثلاً طبعی طور پر جو دلوں کو ڈرانے والی چیزیں ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک زلزلہ ہے مگر یہی زلزلہ ہے جس کے ذریعہ سے دنیا قابل رہائش بنی ہے اور اب بھی اس کے ذریعہ سے تغیرات پیدا ہو رہے ہیں جن میں سے بعض کو سائنس دان سمجھتے ہیں اور بعض ابھی ان پر بھی مخفی ہیں۔در حقیقت زلزلہ دنیا کی زندگی کولمبا کرنے کے لئے آتا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کے لئے ضروری اشیاء کے خزینے پیدا کرنے یا انہیں محفوظ رکھنے کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔انبیاء کے وقت اس لئے زلزلے آتے ہیں کہ دنیا کے قیام کی صورت پیدا ہو۔اسی طرح اگر کسی پر بجلی گرتی ہے تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ایسا شخص ایک عام قانون کی زد میں آگیا ہے اگر وہ مؤمن ہے تو اس کو اس کا بدلہ آخرت میں مل جائے گا اور اگر کافر ہے تو اس کو اس کے اعمال کی سزائل گئی۔مگر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ بجلی سے اگر ایک آدمی مرتا ہے تو لاکھوں کی جان بچتی ہے کیونکہ بجلیوں کے ذریعہ سے ہزاروں قسم کے زہر اور زہر یلے جرمز * مرتے ہیں۔اس بجلی سے روشنی لی جاتی ہے، ریلیں چلائی جاتی ہیں، کارخانے چلائے جاتے ہیں، لاکھوں آدمی ان بجلی کے کارخانوں میں ملازمت کر کے روٹی کماتے اور زندگی بسر کرتے ہیں، پھر ہزاروں بیماریوں سے لوگ اس کے ذریعہ شفاء پاتے ہیں کئی بیماریاں اس کے ذریعہ دور ہو جاتی ہیں۔اس کی موتیں ان لوگوں کو نظر آتی ہیں مگر اس کے زندگی بخش اثر نظر نہیں آتے GERMS