ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 191

191 ہے۔اب تو یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک حد تک کھا کر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گو منہ کو مزا آ رہا ہے لیکن انجام کار اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا اور جسم میں بیماری پیدا ہو جائے گی لیکن اگر زیادہ کھانے سے بیمار نہ ہوتا تو ایک ہی شخص سینکڑوں آدمیوں کا کھانا کھا جاتا اور پھر بھی سیر نہ ہوتا۔یا پھر یہ تجویز کی جاسکتی کہ انسان کچھ کھاتا پیتا ہی نہ جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہر قسم کے تغیر سے محفوظ ہوتا اور گویا خدا ہوتا پھر ایسے انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہوتا ؟ مگر اس کے علاوہ بھی میں کہتا ہوں کہ اس حالت کو فرض کر کے ذرا انسانوں سے یہ پوچھ کر تو دیکھو کہ اگر تمہیں سب میٹھی کھٹی نمکین چیزیں کھانے سے روک دیا جائے اور پھر تمہیں کوئی بیماری نہ ہو تو کیا اسے پسند کرو گے؟ اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ یہ تو خود ایک بیماری ہے اس میں مبتلاء ہونا کون پسند کرے گا۔یہ تو ایسی بات ہے جیسے ایک ایسا شخص جو ناک کے ذریعہ بو کو بھی سونگھ سکے اور بد بوکو بھی اس کو کہا جائے کہ آؤ تمہاری سونگھنے کی قوت ضائع کر دی جائے تا کہ نہ تم خوشبوسونگھ سکو اور نہ بد بو وہ آدمی خوش نہیں ہوگا بلکہ اسے گالی سمجھ کر لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ زیادہ کھانے کی کسی کو توفیق ہی نہ ملتی۔جب کوئی شخص ایک یا دو یا تین یا چار روٹیاں حسب استعداد کھالیتا تو فرشتہ آجاتا اور آکر اس کا ہاتھ پکڑ لیتا اور کہ دیتا کہ بس اب نہ کھانا ورنہ فضلہ پیدا ہو کر بیمار ہو جاؤ گے۔مگر اس طرح تو گویا خدا ہی ان کے پاس آجا تا اور انسان کے لئے امتحان کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہتی اور اس کی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی، اس کے دائیں اور بائیں فرشتے ہوتے جو ہر وقت اسے ٹوکتے رہتے کہ یہ نہ کھانا وہ نہ کھانا اتنا نہ کھاؤ اتنا کھاؤ۔فرض کرو ایک چیز آدمی کو کھانی مناسب نہ ہوتی۔مثلاً یہی فرض کر لو کہ ایک شخص کے لئے کدو مضر ہوتا جب وہ بازار سے خرید تا حجھٹ ایک فرشتہ آتا