ہستی باری تعالیٰ — Page 159
۱۵۹ اس سے معلوم ہوا کہ ان صفات کے ماتحت جو کام ہم کرتے ہیں وہی خدا بھی کرتا ہے لیکن کیفیت میں اختلاف ہے گو یا ظہور صفات میں تو اشتراک ہے لیکن وجو دصفات میں اشتراک نہیں گویا با وجود لفظی مشارکت کے اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت کے لحاظ سے بھی لیس كَمِثْلِه شَي (الشوری: ۱۲) ہے اور لفظی مشابہت صرف بندوں کو سمجھانے کے لئے قبول کر لی گئی ہے۔صفات کے متعلق ایک یہ بھی سوال ہے کہ کیا وہ ہمیشہ ظاہر ہوتی رہتی ہیں یا کسی خاص زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات معطل نہیں ہوتیں مؤمنوں کو بشارت ہو کہ یہ کھڑ کی اب بھی کھلی ہے اور یہ دروازہ اب بھی بند نہیں۔خدا کی صفات غیر محدود ہیں صفات الہیہ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جسقد ر نام قرآن کریم یا احادیث میں آچکے ہیں، خدا تعالیٰ کی صفات اسی قدر ہیں یا اور بھی ہیں؟ اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات بھی اسی طرح غیر محدود ہیں جس طرح کہ اس کی ذات غیر محدود ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث میں جو صفات الہیہ بتائی گئی ہیں وہ صفات ہیں کہ جو اس دُنیا میں انسان سے تعلق رکھتی ہیں انکے علاوہ اور ایسی صفات ہوسکتی ہیں جو ملائکہ سے تعلق رکھتی ہیں یا ہم سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن بہشت میں اور اس دنیا کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ان کو ہم یہاں سمجھ سکتے تھے۔