ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 158

۱۵۸ ہیں۔ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صفات جیسی ہم میں پائی جاتی ہیں ویسی ہی خدا میں بھی ہیں بلکہ ان کے ذریعہ سے صرف اس قدر سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ جس طرح مثلاً آنکھوں یا کانوں کے ذریعہ سے ہمیں آواز یا صورت و شکل یا حرکت کا علم ہو جایا کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی آواز و صورت و شکل یا حرکت کا علم ہوتا ہے۔یا یہ کہ جس طرح انسان اپنے ارادہ کو زبان سے ظاہر کر سکتا ہے خدا تعالیٰ بھی اپنا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔اس سے زیادہ مشابہت خدا تعالیٰ اور بندوں کی صفات میں نہیں ہوتی اور اس سے ہر گز یہ مراد نہیں ہوتی کہ جن آلات سے بندہ کام لیتا ہے خدا بھی لیتا ہے یا یہ کہ جو کیفیات بندے کے اندر پائی جاتی ہیں وہی نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں بھی پائی جاتی ہیں۔مثلاً غضب میں انسان کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دل اور دماغ کی طرف چڑھتا ہے مگر خدا کے متعلق جب یہ آتا ہے کہ جب اس نے مثلاً یہود پر غضب کیا تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ خدا کا بھی جسم ہے اور اس کے جسم میں خون جوش میں آگیا ہے بلکہ اس صفت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح غضب ہماری بہت سخت ناپسندیدگی پر دلالت کرتا ہے خدا تعالیٰ بھی بعض انسانی افعال کو نا پسند کرتا ہے اور ان کے مرتکبین سے بعض قسم کے تعلقات توڑ دیتا ہے۔یا مثلاً محبت کا جذبہ ہے اس جذبہ کے ساتھ بھی انسان کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ تنافر نہیں بلکہ رغبت پیدا ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوتے بلکہ صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس طرح ہمیں جس سے محبت ہو اس سے ہم اچھا سلوک کرتے اور اسے دُکھوں اور بدیوں سے بچاتے ہیں اور آرام پہنچاتے ہیں، خدا تعالیٰ بعض اشخاص کے اخلاص اور محبت کی وجہ سے ان سے اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔