ہستی باری تعالیٰ — Page 155
۱۵۵ کے مطابق اظہار محبت کر رہا تھا لیکن اگر یہی خیال جو جوش محبت میں گڈریا ظاہر کر رہا تھا اس کا عقیدہ بن جاتا اور دوسرے لوگ بھی اس کو سیکھتے تو خدا تعالیٰ کے متعلق کیسا بھڑا خیال دنیا میں باقی رہ جاتا۔چنانچہ ہندوؤں میں اسی قسم کے خیالات نے بڑی ابتری پھیلائی ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب پرمیشور سوتا ہے تو کچھی اس کے پاؤں سہلاتی ہے۔چونکہ ان کو دولت سے بہت محبت ہے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ پر میشور کی بھی یہی حالت ہوگی اس لئے انہوں نے سب سے بڑی عظمت خدا کی یہی سمجھی کہ جب وہ سوتا ہوگا تو بچھی جسے وہ دولت کی دیوی سمجھتے ہیں پر میشور کے پاس آتی اور اس کے پاؤں سہلاتی ہوگی۔اس طرح عیسائیوں کے عجیب و غریب خیالات ہیں۔آج کل ان میں رواج ہے کہ لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ دلانے کے لئے نا تک دکھاتے ہیں۔ایک قصہ مشہور ہے جس میں یہ نقشہ کھینچا جاتا ہے کہ یسوع کو صلیب پر چڑھانے لگے ہیں ایک دوسرا کمرہ ہے جس میں خدا سو رہا ہے ایک شخص جاتا ہے اور جا کر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ باپ اُٹھ بیٹا صلیب پر چڑھنے لگا ہے اس پر خدا آنکھیں ملتا ہوا اٹھتا ہے اور کہتا ہے میری روح کو شیطان ہی لے جائے اگر مجھے اس بات کا پتہ لگا ہو۔پس پسندیدہ طریق یہی ہے کہ اپنی طرف سے خدا کے متعلق کوئی بات نہ تجویز کی جائے۔جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الانعام :۹۲) اپنی طرف سے خدا کے متعلق باتیں بنانے والے کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔جیسے عیسائیوں نے اسے عادل بنایا اور پھر کہ دیا کہ وہ رحم نہیں کر سکتا دیکھو وہ کہاں سے کہاں نکل گئے تو خدا تعالیٰ کے اسماء وہی درست ہو سکتے ہیں جو خدا نے خود بتائے ہیں۔