ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 154

۱۵۴ ہیں۔قدوس۔سلام۔مؤمن مہیمن - عزیز۔جبار۔متکبر۔خالق۔باری۔مصور - حکیم۔علیم۔رزاق۔سمیح۔بصیر۔حفیظ۔کریم۔محی۔قیوم۔رؤف۔رحیم غنی صمد و دود۔ان ناموں کے بتانے کی غرض یہ ہے کہ بندہ ان ناموں کے ذریعہ سے معلوم کر سکے کہ وہ خدا سے کس کس طرح تعلق پیدا کر سکتا ہے۔خدا کے لئے نام تجویز کرنا اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا نے کہا ہے کہ میرے اچھے نام ہیں تو کیا ہم خود بھی کوئی اچھا نام دیکھ کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں؟ میرے نزدیک ایسا نہیں کرنا چاہئے۔وجہ یہ کہ اس میں بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلِلهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْلَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاعراف:۱۸۱) تمام صفات حسنه خدا کی ہیں پس تم ان کے ساتھ اسے پکار و اور ان لوگوں کو جو خدا تعالیٰ کے ناموں کے بارہ میں اپنی طرف سے باتیں بنا لیتے ہیں تم انکو چھوڑ دو۔چونکہ انسان جب خود عقل سے صفات الہیہ پر غور کرتا ہے تو کچھ کا کچھ بنالیتا ہے اس لئے اس طرح کرنا ٹھیک نہیں۔ہاں اگر کوئی شخص جوش محبت میں ایسا کر بیٹھے تو ہم اسے بڑا بھی نہیں کہیں گے۔جیسے مثنوی والے نے ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک گڈریا کہہ رہا تھا کہ اگر خدا مجھے مل جائے تو میں اس کی جوئیں نکالوں، اسے دودھ پلاؤں، اس کے پاؤں دباؤں۔حضرت موسیٰ نے پاس سے گزرتے ہوئے جب یہ سنا تو اسے ڈانٹا کہ اس طرح نہ کہو۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسی کو فر ما یا تم نے اس کا دل کیوں توڑا۔اس کا اسی قدر علم تھا یہ اپنے علم