ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 156

۱۵۶ مخدا کے کسی فعل سے بھی نام نہیں بنانا چاہئے ایک اور سوال ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اچھا ہم اپنی عقل سے تو خدا کا کوئی نام تجویز نہ کریں لیکن جو باتیں خدا نے اپنی طرف خود منسوب کی ہیں ان سے نام بنالیں تو کیا حرج ہے؟ میرے نزدیک اس طرح بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا فعل شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔لیکن نام میں وہ بات نہیں ہو سکتی جیسے آتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا اور دوسری جگہ فرما دیا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِين (البقرۃ: ۲۷) اب اگر کوئی خدا کو یا مضلی کر کے مخاطب کرے تو یہ درست نہیں ہوگا۔کیونکہ یضل کا فعل ایک شرط کے ساتھ استعمال ہوا ہے جو نام سے ظاہر نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ کے نام وہی ہو سکتے ہیں جو اس نے خود بتائے ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں یا پھر مسیح موعود نے بتائے ہیں کیونکہ خدا کے رسول اپنے پاس سے نام نہیں تجویز کرتے بلکہ الہام الہی سے ان کو ان پر مطلع کیا جاتا ہے۔صفات الہیہ کی اقسام اب میں یہ بتا تا ہوں کہ صفات الہیہ چار قسم کی ہیں۔اول وہ جن میں خدا کی قدرتوں کا ذکر ہے اور یہ چار قسم کی ہیں اوّل وہ جو بدء سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ان میں خدا اور مخلوق کے تعلق کی ابتداء کا اظہار کیا ہے یعنی اس کی پیدائش اس کا وجود میں لانا وغیرہ ابتدائی جیسے مادہ کو پیدا کیا۔دوسری جو ایصال خیر سے تعلق