ہستی باری تعالیٰ — Page 153
۱۵۳ معلوم کر لیا ہے جس سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔وہ ہمیں راستہ بتاتے ہیں اور ہم ان کے پیچھے چلتے ہیں لیکن شرک ایک روک ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔صفات الہیہ کیا ہیں؟ شرک کا ذکر کرنے کے بعد میں اب صفات الہیہ کا ذکر کرتا ہوں۔پہلا سوال یہ ہے کہ صفات الہیہ کیا ہیں۔صفات الہیہ وہ اسماء ہیں کہ جن کے ذریعہ سے بندے اور خدا تعالیٰ کا تعلق بتایا جاتا ہے یا خدا تعالیٰ کے مقام تنزیہی یا نزول کی کیفیت بتائی جاتی ہے یعنی وہ اپنی ذات میں کیا کمال رکھتا ہے اور بندوں سے کس طرح معاملہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ اللهُ الَّذِئ لَا إلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوَّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْلى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر : ۲۵،۲۴) وہ اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی کا سرچشمہ ہے، امن دینے والا ہے، محافظ ہے، غالب ہے، نقصان کی اصلاح کرنے والا ہے، بلند مرتبہ ہے، اللہ پاک ہے ان کے مشرکانہ خیالات سے ، وہ اللہ ہے خالق ، شکل بنانے والا، صورتیں دینے والا اس کے اندر تمام اچھی صفات پائی جاتی ہیں اور وہ غالب ہے اور حکمت والا ہے۔یہ وہ نام ہیں جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ بندوں سے تعلق رکھتا ہے یا جن کے ذریعہ تمہارے لئے اپنے قرب کا سامان پیدا کرتا ہے یا جن کے ذریعہ بندہ کو اپنے سے جدا ثابت کرتا ہے۔نام عربی میں صفت کے لئے بھی آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے جو نام قرآن اور احادیث میں آئے ہیں ان سے مراد صفات ہی ہیں اور ان میں سے موٹے موٹے نام یہ