ہستی باری تعالیٰ — Page 152
۱۵۲ انسان کو پیدا کرنے کی غرض غرض بندہ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ اپنی صفات کی اس پر جلوہ گری کرے جیسے آئینہ بناتے ہیں تا کہ اس میں اپنا عکس دیکھا جائے اگر کوئی اس پر عکس نہ پڑنے دے تو اس شخص پر کس قدر غصہ آتا ہے اسی طرح خدا اور بندہ کے درمیان اگر کچھ حائل ہو تو اسے خدا نا پسند کرتا ہے۔بچپن میں میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ میں ایک جگہ لیکچر دے رہا ہوں اور یہ بیان کر رہا ہوں کہ خدا بندہ کے ساتھ اسی طرح تعلق رکھتا ہے جیسے انسان آئینہ سے پھر کہتا ہوں کہ دیکھو اگر ایک شخص کا آئینہ خراب ہو جائے اور وہ اس میں چہرہ دیکھنا چاہے مگر چہرہ نظر نہ آئے تو وہ کیا کرے گا یہی کہ وہ اسے زور سے اُٹھا کر زمین پر دے مارے گا اور اسے چکنا چور کر دے گا اور اس وقت میں نے اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ دیکھا جسے زور سے زمین پر دے مارا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور اس کے ٹوٹنے کی زور سے آواز آئی۔میری اس خواب کی یہی تعبیر تھی کہ بندہ کا دل اللہ تعالیٰ کا آئینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے اور بندے کے درمیان خود کسی کو کھڑا کرے اگر کوئی خود آکھڑا ہو تو خدا تعالیٰ اسے سخت نا پسند کرتا ہے۔نبی کی اطاعت کا حکم دینے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کو کہیں کہ آئینہ صاف کر دو اور شرک جو وسیلہ قرار دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آئینہ پر گرد ڈال دے یا اسے سیاہ کر دے۔ہم لوگ آئینہ ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صاف کر کے خدا کے سامنے کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے خاص قربانی اور خاص اطاعت سے اس طریق کو