ہستی باری تعالیٰ — Page 151
۱۵۱ پابندی کریں جسے وہ مقرر کرتے ہیں۔مگر وسیلہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس لئے پیدا کرے یا اس عہدہ پر مقرر کرے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اندر نہ آسکے یا یہ کہ اپنے بعض اختیار اسے دیدے تا وہ بھی خدا کی بعض صفات کے ذریعہ سے دنیا میں تصرف کرے۔نبیوں کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک واقف راہ ایسے شخص کو جو کسی مقام کا رستہ نہ جانتا ہو اپنے ساتھ لے جا کر راستہ دکھا دے۔دُنیا کا کوئی شخص نہ کہے گا کہ یہ راستہ دکھانے والا شخص درمیانی وسیلہ ہے۔وہ راہنما کہلا سکتا ہے، رہبر کہلاسکتا ہے، استاد کہلا سکتا ہے مگر وہ درمیانی ہرگز نہیں ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر متصرف نہیں ہے۔رسول لوگوں کو بلانے آتا ہے نہ کہ ان کے سامنے دروازہ بند کر کے کھڑے ہو جانے کے لئے۔خلفاء کا تعلق بھی انبیاء سے یہی ہوتا ہے وہ انبیاء کی تعلیم پر لوگوں کو مل کرانے اور نظام قائم کرنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ نبیوں اور لوگوں کے درمیان روک ہوتے ہیں۔یہ نکتہ تھا جس کو بیان کرتے ہوئے حضرت احمد سر ہندی رحمتہ اللہ علیہ کے منہ سے نکل گیا تھا کہ پنجه در پنجه خدا دارم من چه پروائے مصطفی دارم ایسے نیک انسان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کریگا۔ان کا دوسرا کلام ہرگز اس امر کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے ادب تھے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ملنے کا راستہ سب کے لئے کھلا چھوڑا ہے اس غرض کے لئے کسی وسیلے کی اسے ضرورت نہیں خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو قرب الہی کے حصول کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں گونمونے اور رہنما کی اسے ضرورت ہے۔