ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 148

۱۴۸ اطاعت کرو اور حضرت یوسف کے متعلق جو آیت ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یوسف کی ترقی دیکھ کر اور ان کو سلامت پا کر ان کے والد نے شکریہ کے طور پر خدا کو سجدہ کیا نہ یہ کہ یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔شرک کی سخت ناپسندیدگی کی وجہ اب میں یہ بتا تا ہوں کہ شرک کو اتنا نا پسند کیوں کیا گیا ہے؟ کہ سارے قرآن میں اس پر نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔اوّل یہ کہ خدا کا شریک بنانے سے اس کی غیرت بھڑکتی ہے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی شان کسی اور کو دی جائے اور غیرت بھی اعلیٰ صفات میں سے ہے اور اس کا پایا جانا خدا تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے پر دلالت کرتا ہے نہ کہ نقص پر۔دوم بندوں پر رحم اور مہربانی بھی شرک سے روکنے کا باعث ہے اگر لوگ خدا کے سوا اور معبودوں پر بھی یقین رکھیں گے تو اکثر کم ہمتی کی وجہ سے ( تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں) کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم نے چھوٹے خداؤں کو خوش کر لیا۔اس سے آگے جا کر کیا کرنا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی عبادت سے جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری ہے، محروم ہو جائیں گے۔پس لوگوں کو ہلاکت سے بچانے کے لئے شرک کے دُور کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ دوسرے امور کی نسبت زیادہ توجہ فرماتا ہے۔سوم یہ کہ جو امور معبودان باطلہ میں تسلیم کئے جاتے ہیں اگر فی الواقع خدا کے سوا اور وجودوں میں پائے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان حجاب اور پردے پیدا کر چھوڑے ہیں حالانکہ بنی نوع انسان کو پیدا ہی قرب الہی