ہستی باری تعالیٰ — Page 147
۱۴۷ کا اختیار خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے اختیار میں پھر ان کو کس نے طاقتیں دیدیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے سب انبیاء تو یہی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اس کی پرستش کرو۔یہی سیدھا اور پکا طریق ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہم یہ بحث نہیں کرتے کہ خدا کے سوا کوئی پرستش کے قابل ہے یا نہیں ہمیں یہ بتا دو کہ کیا جن جن بھوں کی تم پوجا کرتے ہو ان میں خدا کی طاقت آگئی ہے اگر یہ ثابت کر دو کہ وہ بیٹے دینے کی طاقت رکھتے ہیں، انسانوں کے دُکھ دور کر سکتے ہیں تو ان کے معبود ماننے میں کیا عذر ہوسکتا ہے؟ لیکن اگر ان میں کچھ بھی طاقت نہیں تو وہ معبود کیسے اور ان کی پرستش کیسی؟ فرماتا ہے مشرکوں سے یہی پوچھو کہ جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو ان کے خدا ہونے کی دلیل پیش کرو جب خدائی کے اختیار خدا ہی دے سکتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا یله - (یوسف:۴۱) سب اختیار میرے ہی پاس ہیں تو ان کے پاس کچھ نہ ہوا مگر تم کہتے ہو کہ وہ یہ بات کرتے ہیں یہ کام کرتے ہیں اس لئے ثبوت دو کہ واقع میں ان میں بعض خدائی طاقتیں ہیں؟ ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُونِهِ (لقمن : ۱۲) خدا کی مخلوق ظاہر ہی ہے اگر ان میں بھی کچھ طاقت ہے جن کو تم معبود بناتے ہو تو دکھاؤ انہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کہاں ہے؟ شاید اس موقع پر کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کو ان کے والد نے سجدہ کیا تھا۔اگر غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا نا جائز ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سجدہ کے معنی اطاعت کے بھی ہیں۔فرشتوں سے کہا گیا تھا کہ آدم کی