ہستی باری تعالیٰ — Page 149
۱۴۹ کے حصول کے لئے کیا گیا ہے پس شرک کی وجہ سے چونکہ محبت الہی کم ہو جاتی ہے اور پیدائش کی غرض پوشیدہ ہو جاتی ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے گو یا اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان روک پیدا کرنی چاہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس غلط عقیدہ کو مٹا کر انسان کے دل میں اپنی کامل محبت پیدا کرنی چاہتا ہے جو بلا توحید پر ایمان لانے کے ہو ہی نہیں سکتا۔چوتھے یہ کہ شرک سے جھوٹ ، جہالت اور بزدلی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے ان گناہوں میں مبتلاء ہوں اس لئے وہ اس ناپاکی کو دور فرماتا ہے۔جھوٹ شرک میں یہ ہے کہ جو طاقتیں خدا نے کسی کو نہیں دیں ان کی نسبت کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص یا چیز میں وہ موجود ہیں۔جہالت اس لئے کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے اور خدمت کے لئے بھیجا ہے انہیں وہ اپنا افسر اور حاکم سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے اور ایسے ذرائع سے ان سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے جس طریق سے وہ نفع حاصل نہیں کر سکتا اور بزدلی اس لئے کہ جن وجودوں سے اسے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں جن سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا وہ ان سے کانپتا اور لز رتا ہے۔حق یہ ہے کہ شرک انسان کا نقطہ نگاہ بہت ہی محدود کر دیتا ہے اور اس کی ہمت کو گرا دیتا ہے اور اس کے مقصد کو ادنی کر دیتا ہے۔مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براه راست خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا اور اسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھا وہ سب انسانوں سے یکساں محبت کرتا ہے۔ہاں اگر ان کے اعمال میں فرق ہو تو بیشک وہ اعمال کے لحاظ سے تعلق میں بیشک فرق کرتا ہے لیکن بلحاظ بندہ ہونے کے کافر اور مؤمن سے اس کا یکساں سلوک