ہستی باری تعالیٰ — Page 146
۱۴۶ نیکیوں کے مقابلہ پر آکر انسان کی روحانی ترقیات میں روک نہیں بنتے پس باوجود ان کے انسان نجات پا جائے گا مگر شرک ان گناہوں میں سے نہیں ہے۔اگر ایک انسان مشرک ہو تو خواہ دوسرے اعمال اس کے کسقد ربھی اچھے کیوں نہ ہوں اسے اپنی روحانی پاکیزگی کے لئے جد و جہد کرنی پڑے گی اور ایسے حالات میں سے گزرنا پڑیگا جن میں سے گزرے بغیر روح اگلے جہان میں اپنی امراض کو دور نہیں کر سکے گی اور پھر یہ بھی بات ہے کہ یہ حکم شرک جلی کے لئے ہے نہ کہ شرک خفی کے لئے۔شرک خفی کے متعلق اس کی نیت اور کوشش کو دیکھا جائے گا۔شرک کے خلاف قرآن کا طریق شرک کے خلاف لوگ چونکہ غلط بحثوں میں پڑ جاتے ہیں اس لئے ان کی بحثوں کا نتیجه قطعی نہیں نکلتا مگر جیسا کہ میں مختصراً اوپر ذکر کر آیا ہوں اس مسئلہ کے متعلق بحث زیادہ تر تفصیلی کرنی چاہئے۔مثلاً بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں اس پر بحث کرے کہ وہ کونسا وجود ہے جو سجدہ کا مستحق ہے اس کو ہمارے سامنے پیش کرو۔قرآن کریم نے اس طریق کو اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے مشرک کا ناطقہ اس طرح بند ہو گیا ہے کہ اب موحد کے سامنے اس کی زبان نہیں کھل سکتی۔مثال کے طور پر میں مندرجہ ذیل آیات کو پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءِ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَنٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ ۖ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إيَّاهُ ذلِكَ الدِّينُ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔(یوسف: ۴۱) یعنی تم لوگ سوائے چند ناموں کے جو تم نے اور تمہارے آباء نے آپ ہی رکھ لئے ہیں اور کسی کی عبادت نہیں کرتے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کوئی دلیل نہیں نازل کی۔اپنی طاقتیں دینے