ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 142

۱۴۲ بحثوں کو سمجھ نہیں سکتے اور چونکہ لوگ فلسفیانہ بحثوں میں ہی اکثر پڑ جاتے ہیں اس لئے عوام الناس کو چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔شرک کے مقابلہ کا اصل طریق فطرت انسانی سے اپیل ہے خدا تعالیٰ نے شرک کے خلاف انسان کی فطرت میں مادہ رکھا ہے اور اس کے پاس اپیل رائیگاں نہیں جاتی۔ایک مشرک آدمی سے بھی بجائے فلسفیانہ بحث کرنے کے اگر اس کی عقل اور ضمیر سے اپیل کرتے ہوئے اس کی توجہ کو اس طرف پھیرا جائے تو وہ بہت جلد حق کی طرف رجوع کرتا ہے۔قرآن کریم نے اسی طریق پر زیادہ زور دیا ہے بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ خدا کا شریک ہو سکتا ہے یا نہیں۔لوگوں کو یہ توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے دوسروں کو اس کے برابر قرار نہ دو اور پھر ان چیزوں کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو لوگ خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور اس طرح لوگوں کی صحیح فطرت کو اُکسایا ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ ملک کا ملک شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف لوٹ آیا۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک قانون قدرت بنایا ہے اور جو طاقتیں کسی کو دینی تھیں وہ دے دی ہیں۔ان سے الگ جو کام انسان کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے کی طاقت خدا نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے تا کہ اس کی طرف انسان کی توجہ ہو۔اگر سب کچھ انسان خود کر لیں تو اس کی طرف کون توجہ کرے۔پس خدا تعالیٰ نے قانونِ قدرت بنا دیا اور پھر یہ فیصلہ کر دیا کہ اگر کوئی اس میں فرق کرنا چاہے تو وہ مجھ سے دُعا کرے اس کے بدلنے کی طاقت میں کسی اور کو نہیں دوں گا۔پس صرف ایک ذریعہ دعا کا انسان کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے اور دُعا صرف خدا تعالیٰ سے کی جاسکتی ہے اور کسی سے نہیں۔