ہستی باری تعالیٰ — Page 143
۱۳ دوسرے سے دعا کرانا اگر کوئی کہے کہ پھر دوسرے سے دُعا کرانا بھی ناجائز ہونا چاہئے یہ کیوں جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی اجازت دینے میں ایک حکمت مخفی ہے۔اگر یہ حکمت نہ ہوتی تو دوسرے سے دعا کرانا بھی شرک ہوتا اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسان کمزور ہوتے ہیں وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے اور ان کے لئے کسی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے اگر نمونہ نہ ہو تو ان کا خدا تک پہنچنا مشکل ہو جائے۔پس خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کے مدارج مقرر کر دیئے ہیں تا کہ لوگ صحبت صالح کی جستجو کریں اور بدصحبت سے اجتناب کریں کیونکہ یہ قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص دیکھے گا کہ ایک شخص کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو اس کی طرف توجہ کرے گا اور اس کی صحبت کو قبول کرے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اعمال میں درستی پیدا ہونے لگے گی۔دوسرے دعا کرانے والا کبھی یہ فرض نہیں کرتا کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ نے کوئی طاقت دیدی ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی دُعا کو بوجہ اس کی نیکی کے خدا زیادہ سنتا ہے۔مگر یہ ضرور شرط ہے کہ جس سے انسان دُعا کرائے اس کے متعلق یہ خیال ہر گز نہ کرے کہ اس کی سب دُعا ئیں اللہ تعالی سنتا ہے اگر ایسا سمجھے گا تو وہ مشرک ہو جائیگا۔خدا تعالیٰ کے استغناء کو اسے ضرور مد نظر رکھنا چاہئے۔نمردہ سے دعا کرانا شرک ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر دوسرے سے دُعا کرانا شرک نہیں اور ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مردے سنتے ہیں اور احادیث سے بھی یہ امر ثابت ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مردوں سے