ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 140

۱۴۰ کر سکے اب اگر کوئی کسی مُردہ کو جا کر کسی تصرف کے لئے کہتا ہے تو شرک کرتا ہے۔اس طرح بتوں ، دریاؤں، سمندروں، سورج، چاند وغیرہ چیزوں سے دُعائیں کرنا اور کرانا بھی شرک ہے۔شرک کی نویں قسم نویں قسم شرک کی یہ ہے کہ ایسے اعمال جو مشرکانہ رسوم کا نشان ہیں گواب شرک کی مشابہت نہیں رکھتے ان کا بلا ضرورت طبعی ارتکاب کرے۔مثلاً ایک شخص کسی قبر پر جا کر نہ دعا کرے نہ کرائے ، نہ صاحب قبر کو خدا سمجھے لیکن وہاں دیا جلا کر رکھ آئے تو یہ فعل بھی شرک کے اندر آ جائے گا۔کیونکہ یہ عمل پہلے زمانہ کے مشرکانہ اعمال کا بقیہ ہے۔وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ مردے قبروں پر واپس آتے ہیں اور جن لوگوں کی نسبت معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کی قبروں کا احترام کیا ہے ان کے کام کر دیتے ہیں اس لئے لوگ قبروں پر دیئے یا اور بعض چیزیں رکھ آتے تھے ان یادگاروں کو تازہ رکھنا بھی چونکہ شرک کی مدد کرنا ہے اس لئے شرک میں ہی داخل ہے۔درختوں پر رسیاں وغیرہ باندھنی یا قبروں پر پردے چڑہانے ،ٹونے کرنے ، یہ سب امور اس قسم کے شرک میں شامل ہیں اور سب اسلام کے نزدیک قطعی طور پر حرام ہیں۔میں نے جو یہ لکھا ہے کہ بلا ضرورت طبعی ایسے کام کر نے منع ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ مثلاً کہیں جا رہے تھے اندھیرا ہو گیا اور کسی مقبرہ میں ٹھہر گئے ایسی صورت میں یہ نہیں کہ وہاں اندھیرے میں ہی بیٹھا ر ہے بلکہ اگر روشنی کا سامان کر سکتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ دیا جلا لے۔