ہستی باری تعالیٰ — Page 139
۱۳۹ کہ کوئی شخص اپنے زور سے کام کر دے گا بغیر اس کے کہ یہ سمجھے کہ وہ دعا کر کے خدا سے وہ کام کرا دے گا یہ شرک ہے۔شرک کی ساتویں قسم ساتویں یہ سمجھنا کہ خدا کو کسی بندہ سے ایسی محبت ہے کہ ہر ایک بات اس کی مان لیتا ہے یہ بھی شرک ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہوئے کہ وہ بندہ خدائی طاقتیں رکھتا ہے۔ہر ایک بات جو وہ کہتا ہے قبول ہو جاتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے آدمی کو خدا سمجھا جائے۔اگر اسے خدا کا غلام بھی سمجھا جائے مگر اس کی نسبت یہ خیال کیا جائے کہ اس سے خدا کو ایسی محبت ہے کہ اس کی ہر ایک بات قبول کر لیتا ہے یہ شرک ہے۔سارے پیر فقیر جن کے متعلق لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں اس کے اندر آ جاتے ہیں۔ہماری جماعت کو بھی ایسے خیالات سے بچنا چاہئے۔بعض لوگوں کو میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں یا لکھ دیتے ہیں کہ اگر آپ دعا کریں گے تو وہ ضرور قبول ہوگی۔خدا تعالی بادشاہ ہے کسی کا غلام نہیں، اس قسم کے کلمات سے اللہ تعالیٰ کی بہتک ہوتی ہے اور شرک پیدا ہوتا ہے میں تو کیا چیز ہوں جن لوگوں کے قدموں کی خاک کے برابر بھی میں نہیں ، یہ رتبہ ان کو بھی حاصل نہ تھا۔شرک کی آٹھویں قسم آٹھویں قسم شرک کی یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے خدا کے قانونِ قدرت نے کسی کام کے کرنے کے لئے کوئی طاقت نہیں دی اس کے متعلق خیال کر لیا جائے کہ وہ فلاں کام کر لے گی۔جیسے مثلا خُدا نے مُردہ کو طاقت نہیں دی کہ اس دنیا میں کوئی تصرف