ہستی باری تعالیٰ — Page 131
تم نے مجھے تو نہیں پکڑا میرے ہاتھ کو پکڑا ہے یا پاؤں کو پکڑا ہے یا سر کو پکڑا ہے۔اس کھیل کا بھی درحقیقت یہی مطلب ہے کہ انسان کی حقیقت بھی پوشیدہ ہے صرف چند آثار ظاہر ہیں۔سارے فلاسفر اس بات کی تعیین کرتے کرتے مر گئے کہ میں کیا چیز ہے؟ مگر وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے۔پس جب انسان اپنے آپ کا پتہ نہیں لگا سکتے تو خدا کا پتہ کیا لگا ئیں گے۔حدیث میں آتا ہے كُلُكُمْ فِي ذَاتِ اللہ محمقی کہ خدا کی ذات کے متعلق تم سارے بالکل حیران پریشان ہو اس کی ذات تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی۔سب حقیقت میں مخفی ہوتی ہیں انسان کے اس شک کو دور کرنے کے لئے کہ اگر میں خدا کو نہیں سمجھ سکتا اور اس کی حقیقت معلوم نہیں کر سکتا تو اس کے ماننے کا کیا فائدہ؟ خدا تعالیٰ نے ساری ہی حقیقتوں کو مخفی کر دیا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز کی حقیقت کو بھی ہم نہیں معلوم کر سکتے۔ایک میز کو لے لو ہم اس کی چوڑائی لمبائی اور رنگ دیکھتے ہیں مگر کیا لمبائی چوڑائی اور رنگ کو میز کہتے ہیں؟ ہم ان چیزوں کو دیکھ کر ایک عرفان ایک وقوف اپنے ذہن میں پاتے ہیں اور وہ میز ہوتی ہے۔یا مثلاً کوئی شخص دوسرے کو اپنا بیٹا کہتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا اس لئے کہ وہ اتنا اونچا اور اس رنگ کا ہے۔نہیں بلکہ اس کیفیت کی وجہ سے جو اس کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دُور کرنے کے لئے کہ اگر خدا کی ذات مخفی ہی رہتی ہے تو کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ ہے اور کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، سب چیزوں کی حقیقت کو مخفی کر دیا ہے۔