ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 132

۱۳۲ خدا کی ہستی کا پتہ کس طرح لگتا ہے؟ اب سوال ہوگا کہ پھر اس وراء الوری ہستی کا پتہ کس طرح لگے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا اس کا پتہ الہام سے لگتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام : ۱۰۴) تم خدا تک نہیں پہنچ سکتے مگر اس پر گھبراؤ نہیں ہم خود تمہارے پاس آئیں گے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے ایک دفعہ ان کے پاس بادشاہ کا پروانہ آیا کہ جلدی آ کر ہمیں فلاں جگہ پر ملو۔اس پر ان کے دوست گھبرائے کہ کیا سبب ہے کہ بادشاہ نے اس طرح انہیں بلوایا ہے اور انہوں نے چاہا کہ وہ ابھی ٹھہریں پہلے وہ پتہ لے لیں کہ کیا بات ہے۔مگر وہ چل پڑے۔شام کے قریب سخت بارش آئی اور اندھیرا ہو گیا اور وہ ایک جھونپڑی میں جو جنگل میں تھی پناہ لینے پر مجبور ہوئے وہاں جا کر انہوں نے صاحب مکان سے رات بسر کرنے کی اجازت طلب کی۔جو شخص اندر تھا اس نے کہا آجاؤ۔وہ اندر آ گئے تو دیکھا ایک اپانچ لیٹا ہے جب اس کو انہوں نے اپنا پتہ بتایا کہ میں فلاں ہوں تو وہ رو پڑا کہ میں مدت سے دعائیں کر رہا تھا کہ خدا مجھے آپ کی زیارت کرائے معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ آپ کو میرے لئے ہی لایا ہے۔وہ رات بھر وہاں رہے۔صبح دوسرا ہر کارہ آ گیا کہ آپ کو اب آنے کی ضرورت نہیں رہی واپس چلے جائیں اس سے ان کو اور بھی یقین ہو گیا کہ یہ ایک الہی تدبیر تھی۔جس طرح وہ اپانی جو چلنے پھرنے سے مجبور تھا اس بزرگ تک پہنچ گیا تھا۔اسی طرح ہم خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے معاملہ میں اپاہجوں سے بھی بدتر ہیں، خدا تعالیٰ تک پہنچ