ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 130

اب تم اس کو درست کرنے لگے ہو؟ گویا تعریضا فرمایا کہ اس طرح مار کر ایک بے کس آدمی کی شکل بگاڑ دینے کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ سے تو اس کی شکل کے بنانے میں غلطی ہوگئی تھی اب تم اس غلطی کی اصلاح کرنے لگے ہو؟ اس صورت میں یہ زجر کا کلام ہے اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ خدا کی کوئی صورت اور شکل ہے جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔کیا خدا کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے؟ اب شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ جب وہ ایسی وراء الوریٰ ہستی ہے کہ جس کا کوئی پتہ ہی نہیں لگ سکتا تو پھر ہم اسے کس طرح سمجھ سکتے ہیں اور کیونکر اس کے وجود کو ذہن میں لا سکتے اور اس کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات اور حقیقت کو کوئی نہیں پاسکتا کیونکہ جس چیز کی حقیقت کو کوئی پالیتا ہے اس کو بنا بھی لیتا ہے اور ہمارا خدا کی حقیقت کو پالینے کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم اسے بنا بھی سکتے ہیں۔مثلاً گھڑی ہے اس کے متعلق اگر کامل علم ہو اس کے پرزوں کی ساخت کا بھی اور ان کی ترکیب کا بھی اور اس سامان کا بھی جس سے وہ بنتی ہے اور جس طرح وہ بنتی ہے تو پھر اس کا بنانا بھی ہمارے لئے بالکل ممکن ہوگا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی حقیقت کو سمجھ لینے اور پالینے کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم ایک ویسا ہی خدا بنا بھی سکیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کو سمجھنا تو الگ رہا ہم اپنے آپ کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور اس بات کو بچے بھی جانتے ہیں۔چنانچہ بچے ایک کھیل کھیلا کرتے ہیں۔جس میں ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ مجھ کو پکڑو جب دوسرا اس کے کسی عضو کو ہاتھ لگا تا ہے تو وہ کہتا ہے کہ