ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 113

سے ہیں یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا بھی ضرور ہے پس قرآن کریم کی سچائی ثابت ہو جانے کے ساتھ دہریت کا بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے اور اس صورت میں اس کا ایک ایک لفظ دہریت کا رد بن جاتا ہے۔پس دہریت کا سوال کوئی مستقل سوال نہیں ہے۔کلام الہی کے سوال کے حل ہونے کے ساتھ یہ خودحل ہو جاتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے ثابت کر دینے کے بعد کلام الہی کا سوال حل کرنا پھر بھی باقی رہ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے وہی طریق اختیار کیا جس سے کہ دوسوال ایک دم حل ہو جاتے تھے یعنی قرآن کریم کے ایک بالا ہستی کی طرف سے نازل ہونے کا ثبوت دید یا اور اس ثبوت میں دہریت کا جواب خود بخود آ گیا۔پس یہ کہنا کہ شرک کا رد قرآن کریم میں زیادہ ہے بالکل غلط ہے۔شرک کے رد میں تو خاص خاص آیتیں ہیں اور دہریت کے رد میں قرآن کریم کی ہر آیت ہے اور جب ہر آیت قرآن دہریت کا رد ہے تو الگ ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ لیکن حق یہ ہے کہ قرآن کریم میں دہریت کے رد کے دلائل الگ بھی بیان ہیں جیسا کہ شروع مضمون میں ہم نے بیان کیا ہے کہ گوان کا نام کوئی نہیں رکھا گیا کیونکہ دہریئے خود اپنا نام کوئی تجویز نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان لینے کے بعد کی حالت کا ثبوت دینے اور اس کے متعلق جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان کو دور کرنے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جو مقام حیرت کہلاتا ہے کیونکہ کسی شخص پر یہ ثابت ہو جائے کہ میرا پیدا کرنے والا کوئی موجود ہے تو اس کے دل میں قدرتاً یہ سوال پیدا