ہستی باری تعالیٰ — Page 112
١١٢ مذہبی کتب کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ چونکہ یہ کتب انسانوں نے بنائی ہیں اور ان کے زمانہ میں دہریت کے عقائد رائج نہ تھے وہ ان کا جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کر سکے ورنہ جو مسئلہ سب سے بڑا ہے اسے بالکل نظر انداز کس طرح کیا جا سکتا تھا۔قرآن (کریم) جو سب سے آخری کتاب کہی جاتی ہے وہ بھی اس مسئلہ میں بالکل خاموش ہے حالانکہ شرک کے رد میں اس میں بہت زور لگایا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے علاقہ میں رہتے تھے جہاں دہریت کو ماننے والا کوئی نہ تھا اس لئے اس کے متعلق انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا اور شرک کے متعلق بہت کچھ بیان کر دیا کیونکہ ان کے چاروں طرف مشرک ہی مشرک تھے۔دوسرے مذاہب سے مجھے اس وقت سرو کار نہیں۔اسلام کے متعلق یہ اعتراض غلط ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دہریت کے متعلق علم تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جبکہ لوگ کہیں گے دنیا کو کس نے بنایا؟ جب اسے بتایا جائے گا کہ خدا نے تو وہ پوچھے گا کہ خدا کوکس نے بنایا ہے؟ اور یہی وہ سوال ہے جو دہریت کے بانی سپنسر نے اپنی کتاب میں اُٹھایا ہے۔پس اس حدیث میں صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے دہریت سے متعلق علم دیا ہو ا تھا حالانکہ عرب دہریوں سے خالی تھا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں اس اعتراض کو صاف لفظوں میں کیوں نہیں اُٹھایا گیا۔یہ بات ظاہر ہے کہ اگر قرآن کریم انسانی طاقت سے بالا ثابت ہو جائے تو علاوہ اس کے کہ یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۸۲