ہستی باری تعالیٰ — Page 114
ہوتا ہے کہ وہ کون ہے، کیسا ہے، میرا اس سے کیا تعلق ہے؟ اور مجھے اس سے کس طرح معاملہ کرنا چاہئے ؟ غرض بیسیوں سوالات اور خواہشات معادل میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان سوالات کے جواب دیئے بغیر کا مضمون مکمل نہیں ہوسکتا۔پس اب میں ان سوالات کو جو خدا تعالیٰ کو مان کر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا کم سے کم ان میں سے بڑے بڑے سوالات کو لیکر ایک ایک کر کے جواب دیتا ہوں۔مخداتعالی کا نام جب انسان کسی چیز کا علم حاصل کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا نام معلوم کرنے ، کی اس کے دل میں خواہش ہوتی ہے۔پس میں اسی سوال کو پہلے لیتا ہوں کہ کیا خدا کا کوئی ذاتی نام بھی ہے انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ انسان بلا نام کے کسی چیز کو اپنے ذہن میں لانے سے بہت حد تک قاصر رہتا ہے مگر عجیب بات ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں خدا کا ذاتی نام کوئی نہیں۔نہ یہودیوں میں، نہ عیسائیوں میں، نہ بدھوں میں، نہ ہندوؤں میں، نہ زرتشتیوں میں، نہ کسی اور مذہب میں۔صرف صفاتی نام ہیں جیسے ہندوؤں میں پر ما تما“ کا لفظ ہے۔یعنی بڑی آتما۔پرم ایشور یعنی بڑا ایشور۔ان ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو بھی وہ دنیا کا ہی ایک حصہ قرار دیتے ہیں جو گو بڑا ہے مگر دنیا سے کوئی الگ چیز نہیں۔اسی طرح زرتشتیوں میں جو نام ہیں وہ بھی صفاتی نام ہیں یعنی ان کے معنی ہوتے ہیں اور خدا کے متعلق وہ اسی قدر دلالت کرتے ہیں جو کچھ ان کے معنوں سے پایا جاتا ہے۔مسیحیوں میں بھی کوئی نام نہیں سب صفاتی نام ہیں۔یہودیوں میں خدا کو یہودا کہتے ہیں۔تحقیقات سے ثابت ہوا