حقیقتِ نماز — Page 81
حقیقت نماز کرے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیا ہوں۔بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالی پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو بری خیال کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نما ز بھی پڑھی اور دعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہوتی۔یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہوتا ہے۔نماز اور دعا میں جب تک انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہوئی ہے تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہوگا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے۔یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پر ادا کرے۔جیسے ایک انسان اگر ڈور بین سے دُور کی شے نزدیک دیکھنا چاہے تو جب تک وہ دُوربین کے آلہ کو ٹھیک ترتیب پر نہ رکھے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔یہی حال نماز اور دعا کا ہے۔اسی طرح ہر ایک کام کی شرط ہے۔جب وہ کامل طور پر ادا ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے۔اگر کسی کو پیاس لگی ہو اور پانی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وہ پئے نہ تو فائدہ نہیں اُٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطرہ پئے تو کیا ہوگا ؟ پوری مقدار پینے سے ہی فائدہ ہوگا۔غرضیکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایک حد مقرر کی ہے۔جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو بابرکت ہوتا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلاتے اور نہ ان میں برکت ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 232-231 مطبوعہ 2010ء) 81