حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 80 of 148

حقیقتِ نماز — Page 80

حقیقت نماز بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آ کر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں۔اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہوتا ہے۔جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور کا پز مردگی ظاہر ہوتی ہے۔اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کے لئے ایک انجن ہے۔اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔روح میں جب عاجزی پیدا ہو جاتی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جب روح میں واقع میں عاجزی اور نیازمندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہئے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔اگر چہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے۔مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیازمندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 697-696 مطبوعہ 2010ء) یہ مت خیال کرو کہ جو نما ز کا حق تھا ہم نے ادا کر لیا یا دعا کا جو حق تھا وہ ہم نے پورا کیا۔ہر گز نہیں۔دعا اور نماز کے حق کا ادا کرنا چھوٹی بات نہیں۔یہ تو ایک موت اپنے اوپر وارد کرنی ہے۔نماز اس بات کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کرتا ہو تو یہ محسوس 80