حقیقتِ نماز — Page 82
حقیقت نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔صحابہ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا : کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 53 مطبوعہ 2010ء) ”نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگے مارلیں۔بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں۔یہ کچھ نہیں۔نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اُس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرتب صورت کا نام نماز ہے۔اُس کی نما ز ہر گز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصد کو مد نظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔کھڑے ہو تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتادے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اُس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعا کرو۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 184 مطبوعہ 2010ء) سو تم نمازوں کو سنوارو اور خدا تعالیٰ کے احکام کو اس کے فرمودہ کے بموجب کرو۔اس کی نواہی سے بچے رہو۔اس کے ذکر اور یا د میں لگے رہو۔دعا کا سلسلہ ہر وقت جاری 82