حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 77 of 148

حقیقتِ نماز — Page 77

حقیقت نماز یعنی بلا مانگے اور سوال کئے کے دینے والا۔الرّحِیمِ یعنی انسان کی سچی محنت پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ہے۔مُلِكِ يَوْمِ الدّین۔جزا سزا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔چاہیے رکھے چاہے مارے۔اور جزا سزا آخرت کی بھی اور اس دنیا کی بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔جب اس قدر تعریف انسان کرتا ہے تو اُسے خیال آتا ہے کہ کتنا بڑا خدا ہے جو کہ رب ہے۔رحمن ہے۔رحیم ہے۔اُسے غائب مانتا چلا آرہا ہے۔اور پھر اُسے حاضر ناظر جان کر پکارتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ایسی راہ جو کہ بالکل سیدھی ہے۔اس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ایک راہ اندھوں کی ہوتی ہے کہ محنتیں کر کے تھک جاتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اور ایک وہ راہ کہ محنت کرنے سے اس پر نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔پھر آگے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ یعنی اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا اور وہ وہی صراط مستقیم ہے جس پر چلنے سے انعام مرتب ہوتے ہیں۔پھر غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ۔نہ ان لوگوں کی جن پر تیرا غضب ہوا۔اور وَلَا الضَّالِّينَ۔اور نہ اُن کی جو دور جا پڑے ہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَم سے کل دنیا اور دین کے کاموں کی راہ مراد ہے۔مثلاً ایک طبیب جب کسی کا علاج کرتا ہے تو جب تک اسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے علاج نہیں کر سکتا۔اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ ور علم کی ایک صراط مستقیم ہے کہ جب وہ ہاتھ آجاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی۔وہ تو پیشتر ہی صراط مستقیم پر ہوتے ہیں۔تَلْمِيذُ الرَّحمٰنِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: 77