حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 78 of 148

حقیقتِ نماز — Page 78

حقیقت نماز وہ یہ دعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے کرتے ہیں بلکہ بیراهدِنَا الصِّراط الْمُسْتَقِيمَ تو آخرت میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اُس کے درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔( حاشیہ میں درج ہے : احکم میں یہ عبارت یوں ہے : چونکہ اللہ تعالیٰ غیر محدود ہے اس کے فیضان وفضل بھی غیر منقطع ہیں۔اس لئے وہ ان غیر محدود فضلوں کے حاصل کرنے کے لئے اس دعا کو مانگتے تھے۔)‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 680-679 مطبوعہ 2010ء) نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کر لے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لیے تیار ہو جائے۔جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچے اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھلاتا اس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال 66 بے اثر ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 501 مطبوعہ 2010ء) ”ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں۔لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں 78